گفتگو کو عبارت میں تبدیل کرنے والے ٹولز کے مسائل

قلم نگار ہونا، یعنی کسی کے پاس لکھنے کی صلاحیت کا ہونا ایک بڑی بات سمجھی جاتی ہے اور لکھنے والے خواتین و حضرات ادبی دنیا کے مرکزی کردار شمار ہوتے ہیں۔ اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ کسی موضوع پر اپنے خیالات کو مجتمع کر کے ایک خاص ترتیب سے صفحۂ قرطاس پر منتقل کر دینا تاکہ پڑھنے والے اس موضوع کے متعلق قلم نگار کے موقف سے آگاہ ہو سکیں، یہ عمل دماغ سوزی مانگتا ہے۔ البتہ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے اس انقلاب نے بہت سے دیگر معاملات کی طرح اس حوالے سے بھی صورتحال بدل دی ہے اور تقریباً‌ ہر کسی کے لیے لکھاری بننے کا امکان پیدا کر دیا ہے۔ آپ پوچھیں گے وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ سوشل میڈیا سے کسی بھی معقول صاحب یا صاحبہ کی آٹھ دس منٹ کی گفتگو لیں اور اسے ٹیکسٹ میں کنورٹ کر لیں، اور اس کے بعد اس عبارت کی کچھ نوک پلک درست کر لیں تو وہ ایک اخباری کالم کا روپ اختیار کر جاتی ہے۔ اس کا ایک اضافی فائدہ یہ ہے کہ اگر کسی عبارت کے پیچھے قدرتی انداز کی ویڈیو کی گفتگو بھی موجود ہو تو ایک طرح سے اضافی تصدیق ہو جاتی ہے کہ اس تحریر کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد نہیں لی گئی بلکہ موصوف کے اپنے خیالات پیش کیے گئے ہیں۔

اب یہاں سوال یہ ہے کہ کسی گفتگو کو عبارت میں کیسے تبدیل کریں؟

  1. اس کا ایک طریقہ تو روایتی ہے کہ ایک جملہ سنیں، اسے ٹائپ کریں، پھر اگلا جملہ سنیں، اسے ٹائپ کریں، یہ سلسلہ جاری رکھیں تا وقتیکہ ساری گفتگو ٹائپ ہو جائے۔ اس کام کی مشق ہو جائے تو سب سے بہترین طریقہ یہی ہے۔
  2. دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آج کل Voice    to  Text کے متعدد ٹولز دستیاب ہیں جو آواز سن کر اسے عبارت میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ البتہ ان کی کچھ Limitations ہیں، کچھ مسائل ہیں جن کی وجہ سے ان کا استعمال ہر گفتگو کے لیے نہیں ہو سکتا۔

میں نے اب تک جن ٹولز کا استعمال کیا ہے ان کے حوالے سے مجموعی طور پر کچھ تاثرات یہاں آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں:

  1. پہلی بات یہ کہ آپ کو اُس زبان کا انتخاب کرنا پڑتا ہے جس میں مطلوبہ گفتگو موجود ہے۔ مثلاً‌ گفتگو انگریزی میں ہے تو آپ کو اس ٹول میں موجود ڈراپ ڈاؤن میں سے انگریزی کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ گفتگو اردو میں ہے تو اردو کا انتخاب کرنا ہو گا۔ جب آپ کنورژن کا پراسیس شروع کریں گے تو گفتگو کے دوران آنے والے دیگر زبانوں کے جملے یا تو حذف ہو جائیں گے، یا انہیں اسی زبان میں لکھنے کی کوشش ہو گی جو آپ نے منتخب کی ہے۔ مطلب یہ کہ ضروری نہیں وہ جملے اسی طرح سے لکھے جائیں جس طرح آپ چاہتے ہیں۔
  2. دوسری بات یہ کہ ٹول آپ کو رموزِ اوقاف کی سہولت نہیں دے گا۔ یعنی کوما اور فل سٹاپ وغیرہ آپ کو خود لگانے ہوں گے۔ اور اس کے لیے پراسیس روکنا پڑتا ہے کیونکہ دورانِ عمل آپ تبدیلی نہیں کر سکتے۔ اور اگر آپ کنورژن مکمل ہونے کا انتظار کریں گے تو بعد میں آپ کو عبارت پڑھ کر اندازہ ہو گا کہ اس کے جملے اور پیراگرافس بنانا کتنا مشکل کام ہے۔ کیونکہ عبارت سے نہیں پتہ چلتا کہ بولنے والے نے کس جگہ کتنا وقفہ کیا تھا، اور بعض جگہوں پر یہ معلوم کرنے میں کچھ وقت صرف ہوتا ہے کہ فلاں ٹکرا پچھلے جملے کا حصہ ہے یا اگلے جملے کا۔
  3. گفتگو میں اصل بولنے والے کے علاوہ اگر کسی اور کی آواز آ گئی تو وہ بھی عبارت میں شامل ہو جائے گی۔ مثلاً‌ کسی نے تقریر کے دوران سبحان اللہ کہہ دیا، یا اسٹیج پر نئے مہمانوں کی آمد کی وجہ سے سلام دعا ہوئی تو وہ بھی گفتگو میں آجائے گی۔ اسے آپ کو بعد میں حذف کرنا پڑے گا۔ اور یہ آپ تب کر سکیں گے جب آپ کو یاد رہے کہ کون سی آواز کس کی تھی۔ عموماً‌ بعد میں ساری گفتگو سن کر اس کے ساتھ تیار شدہ عبارت کا موازنہ کرنا پڑتا ہے۔
  4. اور سب مسئلوں کا ایک مسئلہ کہ گفتگو کرنے والے کا اپنا لہجہ کتنا صاف ہے اور الفاظ کا تلفظ کیسا ہے۔ بعض بولنے والے آدھے آدھے جملے بولتے ہیں، اور بعض کے تو الفاظ بھی ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کوئی بھی ٹول ہو، وہ دنیا کے ہر لہجے اور ہر تلفظ سے آشنا نہیں ہوتا، اس لیے جو سمجھ میں آئے گی وہ لکھ دے گا۔

خلاصہ یہ کہ جب آپ وائس ٹو ٹیکسٹ کے کسی بھی ٹول کی مدد سے گفتگو کو عبارت میں منتقل کر لیتے ہیں تو اس میں صفائی اور بہتری کی بہت گنجائش موجود ہوتی ہے۔ میں اس معاملے میں کیا کرتا ہوں کہ کمپیوٹر کی اسکرین کے آدھے حصے پر گفتگو کی آڈیو یا ویڈیو والی ونڈو رکھ لیتا ہوں، اور دوسرے آدھے حصے پر اس سافٹ ویئر کی ونڈو رکھ لیتا ہوں جس میں عبارت موجود ہے۔ پھر وہ ساری گفتگو سنتا ہوں اور ساتھ ساتھ اس کے مطابق عبارت کو درست کرتا جاتا ہوں۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ اس طریقے سے پینتیس چالیس منٹ کی گفتگو کی عبارت بنانے پر بعض دفعہ کئی گھنٹے صرف ہو جاتے ہیں۔ کوئی بہت ہی صاف اور ایک ہی زبان میں تقریر ہو تو پھر یہ طریقہ کسی حد تک کارآمد ہے ورنہ نہیں، اور بالخصوص انٹرویو اور سوال جواب نوعیت کی گفتگو کے لیے تو اس کا رسک نہیں لینا چاہیے۔

ہاں، اگر آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ سے پہلے معلوم ہو کہ بعد میں اس کی عبارت بنے گی تو پھر کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا خیال رکھ لیا جائے تو معاملہ بہتر ہو جاتا ہے، مثلاً‌:

  • الفاظ کا تلفظ نکھرا ہوا ہو- جملے کے اختتام پر ’ہے‘ اور ’گا‘ وغیرہ کے الفاظ جو عام طور پر خاموش ہو جاتے ہیں، انہیں باآواز بلند بولا جائے۔
  • جملے صاف ہوں اور ان کے درمیان مناسب وقفہ ہو۔ ورنہ ٹائپنگ کے وقت بار بار ریکارڈنگ کو ریوائنڈ کرنا پڑے گا۔
  • ساری گفتگو ایک ہی زبان میں ہو۔ اگر اردو گفتگو کے دوران انگریزی یا عربی جملے آ رہے ہیں تو کوشش کریں کہ ان کے ساتھ ان کا ترجمہ بھی آجائے۔
  • کسی اور کی آواز درمیان میں شامل نہ ہو-

بسا اوقات ایک کام آسان نظر آتا ہے لیکن اسے اگر پیشہ وارانہ سطح پر کیا جائے اور اس کام کو معیاری بنانے کے تقاضے پورے کیے جائیں، یا بالفاظِ دیگر اصل گفتگو کے بالکل عین مطابق عبارت تیار کی جائے، تو پھر اس طرح کی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔